Tuesday, February 28, 2017

کیا کیا نہیں رہا

جس دن سے تو میرا نہ رہا
کسی سے کوئی گلا نہ رہا 

نوکری، پیشہ، گاڑی، گھر، مکان،
حسرتوں کا یہ سلسلہ نہ رہا 

نہ رہا شوق گھر کو آنے کا 
بہار کا بھی کافلا نہ رہا